2019-01-20

"میزان" میں منقول بے سند اور ضعیف روایات (١) عمرؓ اور جاہلی شاعری


تدبّر ِقران کے مبادی کے بیان میں جاہلی شاعری کی اہمیت کو بتاتے ہوئے غامدی صاحب لکھتے ہیں:
"یہی بات سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے منبر سے مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمائی ہےیا أیھا الناس،علیکم بدیوانکم، شعر الجاھلیۃ، فإن فیہ تفسیرکتابکم ومعاني کلامکم.(الجامع لاحکام القرآن، القرطبی۱۰  /۱۱۰) 
"لوگو، تم اپنے دیوان،یعنی اہل جاہلیت کے اشعار کی حفاظت کرتے رہو، اِس لیے کہ اُن میں تمھاری کتاب کی تفسیر بھی ہے اورتمھارے کلام کے معانی بھی۔" (میزان، صفحہ ١٩)
اس روایت کے بارے میں واضح رہے کہ ان الفاظ کے ساتھ اور سیدنا عمرؓ بن خطاب سے منسوب سے روایت کی کوئی مکمل سند معروف مصادر میں منقول نہیں. امام قرطبی ؒسے پہلے الثعلبيؒ، زمخشریؒ اور ابن عطیہؒ     نے بھی یہ روایت اسی طرح نقل کی ہے بغیر اسناد کے نقل کی ہے. دو ماخذ البتہ اس روایت کی سند کی بابت کچھ اشارے دیتے ہیں؛

 ابو الحسن الواحدیؒ (المتوفى: ٤٦٨ ہجری )  ذکر کرتے ہیں کہ یہ روایت سعید بن المسیبؒ نے سیدنا عمرؓ سے بیان کی ہے،  لیکن خود  ابن المسیبؒ تک سند انہوں نے بیان نہیں کی (التفسيرالبسيط، ١/٤٠١-٤٠٢). جبکہ قسطلانیؒ (المتوفى: ٩٢٣ہجری) لکھتے ہیں، "وروي بإسناد فيه مجهول عن عمر ..." (عمر ؓسے ایک ایسی سند سے روایت ہے جس میں مجہول راوی ہے کہ ...." (إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري، ٧/١٩٦)

چنانچہ واضح ہوا کہ یہ روایت سنداً ضعیف ہے.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں