2019-01-13

کیا سود دینا گناہ نہیں؟ سود سے متعلق ایک حدیث کی مختلف روایات اور غامدی تاویل پر ان کے اثرات

غامدی صاحب فرماتے ہیں "سود دینے پر کوئی اعتراض نہیں کیا جا سکتا"  چناچہ سود لینے اور دینے والے دونوں پر زجر سے متعلق مشہور حدیث؛ "لعن النبي صلى الله عليه وسلم ... وآكل الربا وموكله" (ترجمہ: نبی (ﷺ) نے لعنت کی ... سود لینے والے پر اور سود دینے والے پر) کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ اس میں "موكله" سے مراد سود کھلانے/دینے والا نہیں بلکہ یہاں سودی کاروبار کے وکیل یعنی ایجنٹ کی حیثیت سے کام کرنے والا مقصود ہے. (ماہنامہ اشراق، نومبر ٢٠١١، صفحہ ٢-٣)
عرض ہے کہ حدیث کی یہ تاویل درست نہیں. اول تو بعض روایات میں "آكل الربا وموكله" کی بجاۓ "آكل الربا، ومطعمه" کے الفاظ اے ہیں جس میں غامدی صاحب کی پیش کردہ تاویل کی گنجائش باقی ہی نہیں رہتی کہ لفظ "مطعم" کو کسی بھی طور پر وکالت اور ایجنٹی کے معنی نہیں دیے جا سکتے. دیکھیے:
-          مسند احمد حدیث ٩٨٠ وغیرہ (راوی سیدنا علیؓ)
-          مسند احمد حدیث ٤٢٨٤، ٤٤٠٣ وغیرہ (راوی سیدنا عبدالله بن مسعودؓ)
-          الاثار لابی یوسف حدیث ١٠٤٨ (مرسلا عن ابراہیم نخعی ؒ)
پھر بعض روایات کا اسلوب بھی غامدی صاحب کی تاویل کو غلط ظاہر کرتا ہے. جیسے مسند احمد اور سنن نسائی وغیرہ میں ہے کہ
عن عبد الله، قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الواشمة والموتشمة، والواصلة والموصولة، وآكل الربا وموكله، والمحلل والمحلل له»
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) نے لعنت فرمائی ہے گودنے اور گودانے والی پر اور بالوں کو (بڑا کرنے کے لیے) جوڑنے والی اور جوڑوانے والی پر اور سود کھانے والے پر اور سود کھلانے والے پر اور حلالہ کرنے پر اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے اس پر  .(سنن نسائی حدیث ٣٤١٦، / مسند احمد حدیث ٤٢٨٣)
اس روایت میں انداز بیان ہی واضح کر رہا ہے یہاں سود کھانے/لینے والے کے ساتھ سود کھلانے/دینے والے کا ذکر ہے جیسا کہ گودنے، جوڑنے، اور حلالہ میں ملوث ہر دو فریق کا ذکر ہے.
یہ درست ہے کہ عام قاعدہ کی روشنی میں اضطراری صورت حال میں اگر کوئی سود دے تو اس پر وہ بار نہ ہو گا جو سود لینے والے پر یا ایسے سود دینے والے پر ہو گا جو عام ضرورت کو مجبوری کا نام دے کر سودی معاملے میں شریک ہو جائے. لیکن صحیح مجبوری میں بھی سود دینے پر مجبور ہونے والے کو یہ پَٹّی پڑھانا کہ یہ معاملہ اپنی اصل میں ہی جائز ہے پَرلے درجے کی حماقت ہے.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں